سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، جو اسلامی جمہوریہ ایران کی بیرون ممالک میں دہشت گردی کا بازو اور ہتھیار ہے، نے گذشتہ ہفتے عراق، شام اور پاکستان پر فضائی حملے شروع کئے تھے، جس میں اسرائیلی جاسوسی ایجنسی موساد کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن ان حملوں میں کوئی اسرائیلی اہداف نہیں تھے اور یہ جھوٹ پاسداران نے غزہ میں جنگ کے پس منظر میں پروپیگنڈہ کرنے کیلئے گھڑا تھا جو ناکام ہو گیا، اور تہران کو اس وقت بڑی شرمندگی سے گزرنا پڑا جب پاکستان نے فوری طور پر پاسداران کے اسپانسر شدہ دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی پاسداران پر حملوں نے ایرانی حکومت کی پریشانی میں اس لئے اضافہ کیا ہے کیونکہ پاکستانی جوابی حملے ایران کو اپنی سرزمین پر سزا دینے کے امکانات کو زندہ کرتے ہیں اور یہ بات دہائیوں کی اس محنت پر پانی ڈالتی ہیں جو ایرانی انقلابی حکومت نے یہ تاثر بنانے کیلئے کی تھی کہ اسے شکست یا سزا نہیں دی جا سکتی۔

سپاہ پاسداران پورے خطے میں ایران کے مسلح پراکسیوں کو مہارت سے چلاتے ہیں اور اس شیطانی پراجیکٹ میں تجربہ رکھتے ہیں، لیکن اس بار پاسداران نے پاکستان پر حملہ کرنے کی غلطی کر دی، جو ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست اور مغرب کا دیرینہ شراکت دار ہے۔ ایران کے اندر سپاہ پاسدران کے زیر انتظام دہشت گردی کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کی پاکستانی جوابی کارروائی کی وجہ سے ایران کا اسرائیل کے خلاف جنگ لڑنے کا پروپیگنڈہ ناکام ہو گیا۔ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے جواب نہیں دیا، ممکنہ طور پر ایک مضبوط پڑوسی کے ساتھ ہمہ گیر جنگ سے گریز کرنا مقصد تھا اور شاید اسلئے بھی کہ ایران کو خدشہ تھا کہ دوسرے ممالک کہیں پاکستان کے ساتھ ایران کے خلاف شامل نہ ہو جائیں۔  

ایران اس بات کا عادی نہیں ہے کہ کوئی ملک ایرانی فساد کے منبع پر بمباری کرنے کیلئے لڑاکا طیارے بھیج دے۔

لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایران کے اندر پاکستانی فضائی حملے ایران کے زہر آلود روئیے کو تبدیل کرنے اور سپاہ پاسداران کی عقل کو ٹھکانے لگانے کے آپشنز پر بحث دوبارہ شروع کرتے ہیں۔ ایران کا غیر مناسب رویہ خمینی نظریہ کی انتہا پسندی پر مبنی ہے جسے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اسلامی جمہوریہ کی توسیع اور پھیلاو کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

پاکستان نے تہران کے ساتھ نمٹنے کیلئے ایک نیا طریقہ پیش کیا ہے: ایرانی پاسداران انقلاب کی حرکتوں کے جواب میں اس پر ایران کے اندر براہ راست جواب دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی جوابی کارروائی کے دور رس نتائج ابھی ماہرین کے سامنے نہیں ہیں، لیکن ابتدائی علامات دلچسپ ہیں: ایرانیوں نے ابھی تک پاکستان کے خلاف رد عمل نہیں دیا ہے، اور ایرانی حکومت اور پاسداران نے فی الحال اپنی معمول کی متکبرانہ بیان بازی کو ترک کر دیا ہے اور پاکستان کے سامنے گڑگڑا کر مصالحت کرنے میں مصروف ہیں۔  پاکستان، ایرانی مفاہمتی بیانات کا مثبت جواب دیکر کشیدگی ختم کر دیگا۔ لیکن پاکستانی جوابی حملے سے چند گھنٹے قبل، ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستانی حکومت کو جوابی حملے سے باز رکھنے کیلئے ٹیلی فون پرایک آخری کوشش کی تھی۔ تاہم پاکستانیوں نے ایرانی وزیر کی بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔

ایران دنیا کو اپنے بازو دکھا رہا ہے۔ اس کی پراکسی حماس نے اسرائیل اورغزہ دونوں کو جنگ میں دھکیل دیا ہے اور اب یمن میں بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ پاکستان پر حملے ایرانیوں کو مہنگے پڑ گئے، لیکن زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ ایرانی حکومت ایک اور حماقت کا ارتکاب کرے گی اور دنیا کو بحران کے دہانے پر دھکیل دے گی۔ ایرانی حکومت بحیرہ احمر میں ایک نئی بحرانی حکمت عملی کا تجربہ کر رہی ہے۔ اس نے جوابی حملوں کے ایک دن بعد ہی پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقیں بھی شروع کر دیں تھیں۔

حالیہ فضائی حملوں کی شرمندگی کے بعد، سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب اپنے زخموں پر مرہم رکھنے میں مصروف ہیں۔  1980 کی دہائی کی ایران عراق جنگ کے 35 سال بعد یہ ایران کے اندر پہلا حملہ ہے۔ یقینا ایرانی یہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے ذریعے جنگ چھیڑنے کے بعد ایران کو پہلا براہ راست تھپڑ پاکستان سے آئے گا۔ 

اس تھپڑ کے علاوہ، پاکستانی حملوں نے ایرانی شہریوں کی نظروں میں سپاہ پاسداران کی عزت کو دھچکا ضرور دیا ہے، اور دو تین دنوں کیلئے خطے بھر میں ایران کو شیطانی کاموں سے دور رکھا اور توجہ ہٹا دی۔  ہمیں امید ہے کہ دنیا اس اہم پیش رفت پر بھرپور توجہ دے گی۔ یہ واقعہ خطے کے ممالک کے ایران کے ساتھ نمٹنے کے نئے طریقوں کو تشکیل دے سکتا ہے۔

© 2020 American Jewish Congress.