نیویارک — اگرچہ یہ قرارداد اسرائیل کے خلاف گہرا تعصب رکھتی ہے، لیکن امریکی یہودی کانگریس پاکستان کے اس کردار کا خیرمقدم کرتی ہے جس کے تحت جنیوا میں انسانی حقوق كونسل كی اس قرارداد کے انتہائی متنازعہ نکات کو نکالا گیا ہے، اور ایسی زبان شامل کی گئی ہے جس میں 7 اکتوبر کے حملوں کی مذمت کی گئی اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد سعودی عرب کے زیر قیادت اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جو 57 مسلم اکثریتی ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ منظور شدہ قرارداد اب بھی کئی سنگین خامیوں کی حامل ہے، جیسے کہ حماس اور اس کی دہشت گردی، بوڑھے اسرائیلی شہریوں کو قتل کرنے اور بچوں کو اغوا کرنے جیسے جرائم کا کوئی ذکر نہیں، اور ایسی زبان شامل ہے جو دہشت گردی کا شاید جواز پیش كر رہی ہے۔ اس کے باوجود، پاکستان اور او آئی سی کی طرف سے کی جانے والی ترامیم ایک اہم پیش رفت ہیں اور قابل تعریف ہیں۔
منظور شدہ قرارداد میں درج ذیل اہم نکات قابل ذکر ہیں:
قیدیوں، خواتین قیدیوں، اور لاشوں کی حوالگی سے متعلق بین الاقوامی معیارات کا ذکر، جو کہ حماس پر واضح تنقید ہے
سات اکتوبر کے دہشت گردانہ حملوں کی باضابطہ مذمت
اسرائیل پر شہری آبادی والے علاقوں پر راکٹ حملوں کی صریح تنقید اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے مسلح گروہوں کی مذمت
ایک ایسا پیراگراف جس کے تحت اسرائیلی حکام کے خلاف اقوام متحدہ میں مقدمہ چلانے کا میکنزم قائم ہونا تھا، اسے ہٹا دیا گیا اور اس کی جگہ ایک غیر پابند تجویز دی گئی
یہ عناصر، او آئی سی کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کے متن میں اہم تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے سفارتی رجحانات کی علامت ہو سکتی ہے۔ او آئی سی کے کئی رکن ممالک جیسے کہ البانیہ، مراکش، اردن، آذربائیجان، اور متحدہ عرب امارات، اسرائیل کے مضبوط شراکت دار ہیں۔
سب سے قابل ذکر بات پاکستان کا کردار ہے، جس نے أصل مسودے سے سب سے زیادہ متنازعہ شق کو تبدیل كرنے میں سفارتی مدد كی ہے، جو ‘تمام فریقین’ کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مقدمات چلانے کیلئے اقوام متحدہ کا مستقل میکانزم قائم کرنے کی تجویز دے رہی تھی۔ اس کی جگہ، حتمی مسودے میں صرف جنرل اسمبلی کو ایسی تجویز پر غور کرنے کا کہا گیا ہے—جو ایک اہم فرق ہے کیونکہ جنرل اسمبلی کی قراردادیں غیر پابند ہوتی ہیں۔
ہم پاکستان اور او آئی سی کی اس ترمیم کو ایک تعمیری اشارہ سمجھتے ہیں جو مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے سفارتی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے۔ مسلم اکثریتی ممالک جیسے کہ آذربائیجان، مراکش، اور امارات، اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر رہے ہیں، اور انڈونیشیا بھی اسرائیل كے ساتھ تعلقات بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔ یہ علاقائی تبدیلیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت ابراہیمی معاہدوں کے دوسرے مرحلے کی توقعات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
اسرائیل کی طرح، پاکستان نے بھی دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ لڑی ہے، جن میں وہ گروہ شامل ہیں جو نظریاتی طور پر حماس جیسے گروہوں سے جڑے ہوئے ہیں، جیسے القاعدہ۔ اس تناظر میں، پاکستان کا ایسی زبان کو شامل کرنا دہشت گردی کے خلاف پاكستان لے وسیع تر مؤقف کا قدرتی تسلسل ہے، جو مستقبل میں تعلقات پر بات چیت کیلئے سازگار ماحول فراہم کر سکتا ہے اور پاکستان–امریکہ تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، خاص طور پر انسداد دہشت گردی اور علاقائی استحکام کے تناظر میں۔
اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں واضح رہنا چاہیے: قرارداد اب بھی شدید خامیوں کی حامل ہے۔ اس میں حماس کا نہ تو ذکر ہے اور نہ اشارہ، حالانکہ یہ گروہ غزہ جنگ کا مرکزی محرک ہے، 7 اکتوبر کو ہونے والے مظالم کا مرتکب ہے، اور ابھی بھی معصوم شہریوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ یہ قرارداد اسرائیل کی جائز سکیورٹی خدشات کو نظرانداز کرتا ہے اور غزہ میں مسلح گروہوں کی موجودگی کو نظر انداز کرتا ہے۔
ایسے گروہوں جیسے حماس کو کسی ابہام یا حوصلہ افزائی کی ضرورت نہیں۔ بین الاقوامی قراردادوں میں ایک واضح اخلاقی فرق ہونا چاہیے کہ کہاں قومی جدوجہد ہے اور کہاں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والا تشدد۔
اس کے باوجود، پاکستان کی ترامیم اور او آئی سی کی قرارداد میں ابھرنے والی اعتدال پسندی قابل توجہ ہے۔ ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ قراردادوں میں اسرائیل اور غزہ میں حماس کی طرف سے کیے گئے مظالم کی مذمت کریں اور یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کریں۔ امریکی یہودی کانگریس امن، باہمی احترام، اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کی حمایت کیلئے پرعزم ہے۔



