امریکی یہودی کانگرس کا ماننا ہے کہ حالیہ اسرائیلی اور امریکی فوجی کارروائیوں — “آپریشن رائزنگ لائن” (اسرائیل کی طرف سے) اور “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” (امریکہ کی طرف سے) — نے براہِ راست پاکستان کے اسٹریٹیجک مفادات کو فائدہ پہنچایا ہے۔ ان کارروائیوں نے ایران کو نمایاں حد تک کمزور کیا ہے، اور پاکستان و عرب ریاستوں کیلئے امن، استحکام، اور ابراہیمی معاہدوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا ایک نیا موقع پیدا کیا ہے۔

• ان مشترکہ کارروائیوں نے ایران کی جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائل نظام، اور پراکسی جال کے کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا۔
• ان حملوں نے ایران کے جارحانہ عزائم کو مہینوں، بلکہ شاید برسوں تک، پیچھے دھکیل دیا اور ایران کی خطے کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا — خاص طور پر پاکستان، آذربائیجان، اور خلیجی ممالک کے تناظر میں۔

پاکستان کو ایران کے سخت گیر نظریاتی نظام سے طویل عرصے سے سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہا ہے:

•  1979 میں ایران میں انقلاب کے بعد سے تہران نے افغانستان اور خلیج میں پاکستان کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی مسلسل کوشش کی۔
•  ایران کے حکمران ‘خمینیت پسند’ نظریاتی گروہ نے پاکستان کی عوام کو مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کے ایجنڈے کیلئے بارہا استعمال کرنے کی کوشش کی۔
•  ایران نے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان بداعتمادی پھیلانے اور پاکستان و عرب ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوششیں کیں۔
•  یمن کی جنگ، جسے ایران نے ہوا دی، نے بحیرہ احمر کے راستے پاکستان کی برآمدات کو شدید خطرات سے دوچار کیا اور خلیجی اتحادیوں سے تعلقات کو کمزور کیا۔
•  ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ پاکستان کی قومی سلامتی کیلئے ایک غیر معمولی خطرہ بن چکی ہے۔
• یہ ساری باتیں آذربائیجان، ترکیا، اور خلیجی ممالک کیلئے بھی درست ہیں۔

ان اسرائیلی-امریکی حملوں نے:

•  پاکستان اور ہمسایوں میں میں ایران کی پراکسی دہشت گرد تنظیموں کو مدد کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا۔
•  ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اُس عسکری ڈھانچے کو مفلوج کیا جس نے 2024 میں پاکستان پر حملے کئے تھے۔
•  یہ پیغام دیا کہ فرقہ واریت، عسکریت پسندی، اور علاقائی عدم استحکام مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

یہ لمحہ پاکستان کیلئے اسٹریٹیجک امکانات کے نئے در کھولتا ہے:

•  مغربی سرحد پر سیکیورٹی کے بوجھ کو کم کرنے کا موقع۔
•  خلیجی، وسط ایشیائی، اور حتیٰ کہ اسرائیلی معیشتوں کے ساتھ تجارتی و سائنسی تعلقات میں دوبارہ سرمایہ کاری — وہی عمل جس کا آغازامریکی یہودی کانگرس نے 2005 میں کروایا تھا، اور 2023 میں دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کی تھی۔
• پاکستان کیلئے یہ موقع ہے کہ وہ خطے میں ایک معتدل، ذمہ دار، اور استحکام لانے والی طاقت کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط کرے۔

اختتامیہ: اسٹریٹیجک موقع سے فائدہ اٹھائیں

ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی عوام کو ایران نواز انتہا پسند عناصر اور جھوٹی معلومات پر مبنی پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنا چاہیے:

•  یہ دعوے کہ پاکستان کا نیوکلئر پروگرام اگلے حملوں کا نشانہ ہے، دراصل خوف اور بے یقینی پھیلانے کی کوشش ہے۔
•  ایسے بیانیے فیصلہ سازی کو مفلوج کرنے اور پاکستان کو خاموشی پر مجبور کرنے کی سازش کا حصہ ہیں۔
•  حقیقت یہ ہے کہ ایران کے سخت گیر نظام کی کمزوری پاکستان کے لیے سیاسی اور سیکیورٹی دونوں حوالوں سے فائدے مند ہے۔

[اختتام]

© 2020 American Jewish Congress.